مردہ دل

قسم کلام: صفت ذاتی

معنی

١ - جس کا دل مر چکا ہو، جس کے دل میں جینے کی امنگ نہ ہو، پژمردہ، اداس، دلگیر؛ بے حس آدمی، غمگین (زندہ دل کے مقابل)۔ "اب یہ کوشش کرو کہ مردہ دلان پنجاب زندہ ہو جائیں اور اس کام کو دل لگا کر کریں۔"      ( ١٩٩٢ء، قومی زبان، کراچی، اگست، ٢٣ )

اشتقاق

فارسی زبان سے ماخوذ اسم نیز صفت 'مردہ' کے ساتھ فارسی اسم 'دل' لگانے سے مرکب 'مردہ دل' بنا۔ اردو میں بطور اسم نیز صفت مستعمل ہے۔ ١٦٥٧ء کو "گلشن عشق" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - جس کا دل مر چکا ہو، جس کے دل میں جینے کی امنگ نہ ہو، پژمردہ، اداس، دلگیر؛ بے حس آدمی، غمگین (زندہ دل کے مقابل)۔ "اب یہ کوشش کرو کہ مردہ دلان پنجاب زندہ ہو جائیں اور اس کام کو دل لگا کر کریں۔"      ( ١٩٩٢ء، قومی زبان، کراچی، اگست، ٢٣ )

جنس: مذکر